LIVE
Loading Breaking News...

روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں انقلاب، 2027 تک بڑا سنگ میل عبور ہونے کی توقع

News Image
اے سی ای روبوٹکس کے چیئرمین وانگ ژیاو گانگ نے پیشگوئی کی ہے کہ سال 2027 کے آخر تک مجسم مصنوعی ذہانت اپنے 'چیٹ جی پی ٹی لمحے' تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم حقیقی دنیا کے تربیتی ڈیٹا کی کمی اس شعبے کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک اور بڑے انقلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اے سی ای روبوٹکس کے چیئرمین وانگ ژیاو گانگ کا کہنا ہے کہ آنے والے چند برسوں کے اندر اندر روبوٹ کے دماغوں میں بھی وہی انقلاب برپا ہو سکتا ہے جو حالیہ برسوں میں چیٹ جی پی ٹی کی صورت میں زبان اور تحریر کے شعبے میں دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اہم سنگ میل سال 2027 کے آخر تک طے پایا جا سکتا ہے۔ ماہرین اس پیشگوئی کو روبوٹکس انڈسٹری کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے بنیادی خیال مجسم مصنوعی ذہانت یا ایمباڈیڈ اے آئی کا ہے، جو روبوٹس کو محض طے شدہ احکامات پر عمل کرنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھنے اور انسانوں کی طرح فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب یہ ٹیکنالوجی اپنے عروج پر پہنچے گی تو روزمرہ کے امور، صنعتی پیداوار اور گھریلو خدمات کے شعبے میں روبوٹس کا کردار یکسر بدل جائے گا اور وہ زیادہ خودمختار ہو جائیں گے۔ تاہم، اس بڑی پیشرفت کی راہ میں کچھ سنجیدہ نوعیت کی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ وانگ ژیاو گانگ نے واضح کیا ہے کہ حقیقی دنیا کے تربیتی ڈیٹا کی شدید قلت اس وقت اس شعبے کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ڈیجیٹل ڈیٹا کے برعکس، فزیکل دنیا کا درست اور وسیع ڈیٹا جمع کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے، جس کے بغیر روبوٹس کو حقیقی حالات کے مطابق تربیت دینا ناممکنات میں شامل ہے۔ اس کے باوجود، دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اور تحقیقی ادارے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ محققین نت نئی تکنیکوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ کم سے کم ڈیٹا کی مدد سے روبوٹس کو زیادہ مؤثر طریقے سے سکھایا جا سکے۔ اگر یہ رکاوٹیں وقت پر دور کر لی گئیں، تو واقعی 2027 تک کا یہ سفر روبوٹکس کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری انسانیت پر مرتب ہوں گے۔