LIVE
Loading Breaking News...

انفیشنا ریسرچ انیشیٹو: بائیو انفارمیٹکس پروجیکٹ نے پہلا انعام جیت لیا

News Image
طلبہ کے تحقیقی پروگرام انفیشنا کا کامیابی کے ساتھ اختتام ہو گیا ہے جہاں بائیو انفارمیٹکس کے پروجیکٹ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پروگرام من کی بات میں اس اہم اقدام کی بھرپور تحسین کی ہے۔
طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں سائنسی رجحان پیدا کرنے کے لیے شروع کی جانے والی اہم تحقیقی پہل انویسھنا (Anveshana) کا حال ہی میں انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام ہو گیا ہے۔ اس سالانہ مقابلے میں ملک بھر سے طلبا و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور اپنے جدید سائنسی پروجیکٹس پیش کیے۔ مجموعی طور پر اس فائنل مرحلے میں بیس نمایاں پروجیکٹس کو نمائش اور مقابلے کے لیے پیش کیا گیا تھا، جن میں سے ہر ایک نے اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اہمیت کی حامل ٹیکنالوجی اور سائنسی حل پیش کیے۔ اس سنسنی خیز مقابلے میں بائیو انفارمیٹکس پروجیکٹ نے تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر کے میدان مار لیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت مالیکیولر ڈاکنگ اور اس سے جڑے جدید سائنسی پہلوؤں پر گہرائی سے کام کیا گیا تھا جسے ججوں نے بے حد سراہا۔ اس کے علاوہ دیگر نمایاں پروجیکٹس میں زرعی شعبے سے جڑے پیسٹی سائیڈز کے اثرات، کچرے کو کارآمد گھریلو مواد میں تبدیل کرنے کے طریقے اور دیگر ماحولیاتی مسائل کے حل پر تحقیق شامل تھی۔ طلبہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ان گراں قدر تحقیقات نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ نئی نسل سائنسی مسائل کے حل میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور عالمی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اس تحقیقی پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے مقبول عام ریڈیو پروگرام من کی بات میں اس اقدام کا خصوصی ذکر کیا اور اس کی بھرپور تعریف کی۔ وزیراعظم کی جانب سے سراہے جانے کے بعد انویسھنا پلیٹ فارم کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور تعلیمی حلقوں میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے مقابلے نوجوان طلبہ میں تنقیدی سوچ اور ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔