LIVE
Loading Breaking News...

بینک آف امریکہ سروے: سرمایہ کاروں کی تیزی اور کم ترین کیش لیولز

News Image
بینک آف امریکہ کے اگست کے گلوبل فنڈ مینیجر سروے کے مطابق سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت ہو گیا ہے اور کیش ہولڈنگز تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اس تیزی سے معاشی استحکام کی نئی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں۔
بینک آف امریکہ کے حالیہ گلوبل فنڈ مینیجر سروے کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد اور رجحان تیزی سے بہتر ہو رہا ہے۔ سنہ 2022 کے بعد سے یہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تیسری بلند ترین سطح کی امید پرستی ہے، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی جان پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سروے کے مطابق پورٹ فولیو میں نقد رقوم یعنی کیش ہولڈنگز اپنی تاریخی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار اپنے فنڈز کو محفوظ رکھنے کے بجائے منافع بخش شعبوں اور اسٹاکس میں لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کیش کی سطح میں کمی اور مارکیٹ کی طرف سرمائے کی یہ منتقلی اس بات کی غماز ہے کہ سرمایہ کاروں کو معاشی حالات کے بہتر ہونے پر مکمل بھروسہ ہے۔ اس سروے میں دنیا بھر کے بڑے فنڈ مینیجرز اور مالیاتی اداروں کے فیصلوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے مطابق افراط زر کے دباؤ میں کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں متوقع نرمی نے کاروباری حلقوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں اس تیزی کی وجہ سے مختلف سیکٹرز میں شیئرز کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، بالخصوص ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ کیش کی کم سطح کسی حد تک خطرات کو بڑھا سکتی ہے کیونکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نقد روپیہ کم ہوتا ہے، لیکن اس وقت سرمایہ کاروں کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا اور مارکیٹ کے طویل مدتی رجحانات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ بینک آف امریکہ کی اس رپورٹ نے عالمی سرمایہ کاری کے تناظر میں ایک مثبت بحث کو جنم دیا ہے اور آنے والے مہینوں میں معاشی پالیسیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔