Technology
مصنوعی ذہانت اور ایئرلائنز: سستے ہوائی ٹکٹوں کا دور ختم ہونے کا خدشہ
فضائی سفر کے شوقین افراد کو جلد ہی ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور سستی نشستوں کے نایاب ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے حامل متحرک قیمتوں کے نظام کی وجہ سے ایئرلائن کمپنیاں اب ٹکٹوں کی قیمتوں کا تعین انتہائی باریک بینی سے کر رہی ہیں۔
فضائی سفر کے شوقین افراد کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے کہ ہوائی ٹکٹوں کی خریداری اب پہلے جیسی سستی نہیں رہے گی۔ ماہرین کے مطابق، ایئرلائنز کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی متحرک قیمتوں کے نظام کے استعمال کی وجہ سے مقبول پروازوں پر سستی نشستیں تلاش کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے روایتی طریقوں کے برعکس، اب جدید الگورتھم ہر سیکنڈ میں مسافروں کے رجحانات، مانگ، بکنگ کے اوقات اور دیگر مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لے کر خود بخود ٹکٹوں کے دام تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایئرلائن کمپنیوں کے لیے منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے، لیکن اس کا براہ راست نقصان عام مسافروں کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو عموماً آخری وقت میں سستے سودے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایئرلائن انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں روایتی ڈسکاؤنٹ یا فلیٹ ریٹس کا تصور ختم ہو سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت ہر ایک مسافر کی استطاعت اور ضرورت کے مطابق الگ قیمت مقرر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مسافروں کو اب سفر کے منصوبے بہت پہلے سے بنانے ہوں گے کیونکہ آخری لمحات میں ٹکٹ خریدنا انتہائی مہنگا پڑ سکتا ہے۔ دنیا بھر کی بڑی ایئرلائن کمپنیاں اس نظام کو تیزی سے اپنا رہی ہیں، جس سے فضائی سفر کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سستے ہوائی سفر کے اس دور کے خاتمے سے متوسط طبقے کے مسافروں پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا، اور انہیں سفر کے متبادل ذرائع یا پہلے سے بہتر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔