Technology
جنریٹو اے آئی اور بچوں کا کیریئر: مارگن ہاؤسل کی اہم وارننگ
ہارورڈ یونیورسٹی کے حالیہ تحقیقی مقالے کے مطابق جنریٹو اے آئی اپنانے والے اداروں میں جونیئر ملازمین کی ملازمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ نامور مصنف مارگن ہاؤسل نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے نئی نسل کے کیریئر کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک حالیہ ورکنگ پیپر میں لاکھوں کارکنوں اور ہزاروں امریکی کمپنیوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا جنریٹو اے آئی کو اپنانے والے ادارے جونیئر سطح کی ملازمتوں میں نمایاں کمی کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے ذریعے جونیئر ملازمین کے روایتی کاموں کو خودکار بنا رہی ہیں، جس کی وجہ سے نئی نسل کے لیے ملازمت کے مواقع تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ مشہور فنانشل مصنف اور محقق مارگن ہاؤسل نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین اور طلبا کو خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں جونیئر کیریئرز کو بچانا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔ مارگن ہاؤسل کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر جونیئر ملازمین وہ بنیادی کام انجام دیتے تھے جن سے وہ سیکھ کر آگے بڑھتے تھے، لیکن اب اے آئی ان بنیادی کاموں کو لمحوں میں سر انجام دے رہا ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے کمپنیوں کو جونیئر سطح پر نئے افراد کو بھرتی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی، جو کہ مستقبل کی لیبر مارکیٹ کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے تعلیمی نظام اور ہنر سکھانے کے طریقوں میں فوری تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل اے آئی کے دور میں بھی اپنی اہمیت برقرار رکھ سکے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ طلبا کو روایتی جونیئر اسکلز کے بجائے ایسی مہارتیں سکھائی جائیں جو اے آئی سے بالاتر ہوں، بصورت دیگر آنے والے برسوں میں جونیئر ملازمتوں کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا اور نئی نسل کے لیے معاشی استحکام حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔