LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم اور سندھ کے وزیر اعلیٰ کی ملاقات، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

News Image
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے حکومتی اتحاد میں پیدا ہونے والے تناؤ کے تناظر میں سیاسی رواداری اور باہمی مشاورت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ملاقات کی ہے جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور حکومتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بعض امور پر تحفظات اور تناؤ کی اطلاعات زیر گردش تھیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا چاہیے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتحادی حکومت کے اندر تمام فیصلوں میں مشاورت کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ دونوں رہنماؤں کا ماننا تھا کہ سیاسی اختلافات کو جمہوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات متاثر نہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملاقات میں صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی فنڈز کی فراہمی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو سندھ کے عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل کے لیے وفاقی تعاون کو سراہا۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح رہے گی۔ سیاسی مبصرین اس ملاقات کو موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے اور کسی بھی غلط فہمی کو مذاکرات کے ذریعے دور کیا جائے گا۔