LIVE
Loading Breaking News...

مغربی میزائل اور یوکرین جنگ کا مستقبل

News Image
برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے خفیہ میزائلوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم یوکرین کے دفاع کو مضبوط کرے گا لیکن اکیلے اس سے جنگ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوگا۔
برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو جدید طویل فاصلے کے میزائل فراہم کرنے کے فیصلوں کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر جنگ کے رخ اور اس کے ممکنہ نتائج پر بحث چھڑ گئی ہے۔ حال ہی میں برطانوی قیادت نے یوکرین کے دورے کے دوران اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کییف کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں خفیہ میزائل ٹیکنالوجی تک رسائی دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا اور روسی حملوں کا مؤثر جواب دینا ہے۔تاہم، عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مغربی میزائل میدانِ جنگ میں یوکرین کی پوزیشن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے، لیکن اکیلے ان کی بنیاد پر اس طویل جنگ کا فیصلہ کن رخ موڑنا مشکل ہوگا۔ جنگ کے زمینی حقائق، فوجیوں کی تربیت، رسد اور دونوں جانب کے اسٹریٹجک وسائل ایسے عوامل ہیں جو طویل مدتی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جدید ہتھیار یقیناً یوکرین کو دشمن کے خلاف زیادہ گہرائی میں حملہ کرنے کی طاقت دیتے ہیں، مگر حتمی فتح کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہے۔دوسری جانب، اس پیش رفت پر روس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ روس نے حالیہ تنازعہ کے پیشِ نظر لندن سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ مغربی ہتھیاروں کی یوکرین منتقلی نہ صرف جنگ کے میدان میں اثرات دکھائے گی بلکہ عالمی سفارت کاری پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔