World
اسٹورم شیڈو میزائل اور روس یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال
برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیا جانے والا اسٹورم شیڈو میزائل روس اور یوکرین کی جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار اس جدید ہتھیار کی صلاحیتوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسٹورم شیڈو میزائل کے حوالے سے عسکری حلقوں میں بحث جاری ہے کہ آیا یہ ہتھیار روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی نے میدان جنگ میں یوکرین کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یوکرین کی فوج طویل فاصلے تک دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ہو گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹورم شیڈو میزائل اپنی درست نشانے بازی اور تخریبی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہے، جو دشمن کے مضبوط دفاعی حصار کو بھی توڑ سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے یوکرین کو یہ برتری حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ جارحانہ حکمت عملی پر بھی عمل پیرا ہو سکے۔ نامہ نگاروں اور عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے جنگ کے زمینی حقائق تبدیل ہو رہے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ میزائل اکیلے ہی اس تنازع کا کوئی فیصلہ کن نتیجہ لانے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ روس کی جانب سے ان مغربی ہتھیاروں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے براہ راست تنازع میں مغربی ممالک کی شمولیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں جنگ کا رخ کس طرف مڑے گا، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ یوکرین ان جدید ہتھیاروں کا استعمال کس حکمت عملی کے تحت کرتا ہے اور روس اس کا کیا دفاعی جواب تیار کرتا ہے۔