World
پرنس ہیری کا افریقی وائلڈ لائف چیریٹی کے بورڈ سے استعفیٰ
برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس ہیری نے افریقی وائلڈ لائف چیریٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ قدم گزشتہ سال تنظیم کے رینجرز پر کانگو میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے اہم فرد پرنس ہیری نے افریقی وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی معروف تنظیم 'افریقی پارکس' کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے اس تنظیم کے ساتھ وابستہ تھے اور اس کے مقاصد کی بھرپور حمایت کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ قدم اٹھانے کی بنیادی وجہ گزشتہ سال سامنے آنے والے وہ سنگین الزامات ہیں جن میں تنظیم کے رینجرز کو کانگو میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ تنظیم نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس کے بعض اہلکاروں کی جانب سے کانگو برازاویل میں مقامی افراد کے حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ کانگو کے اس خطے میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے دوران پیش آنے والے ان ناخوشگوار واقعات نے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ اس صورتحال کے تناظر میں پرنس ہیری پر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اس تنظیم سے اپنی وابستگی پر نظرثانی کریں۔ پرنس ہیری کے ترجمان اور قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے سخت خلاف ہیں اور اس طرح کے معاملات پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے تنظیم کے بورڈ سے علیحدگی کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہ سکیں اور اس تنازع سے فاصلہ اختیار کر لیں۔ دوسری طرف افریقی پارکس نے اس واقعے کے بعد اندرونی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اس بات کا عزم ظاہر کیا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے رینجرز کے طرز عمل کو بہتر بنانے اور مقامی آبادی کے ساتھ تعلقات کو درست کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم پرنس ہیری کا یہ استعفیٰ تنظیم کے لیے ایک بڑا دھماکہ خیز قدم مانا جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے شاہی فلاحی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کے احتساب کے حوالے سے ایک نیا مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔