LIVE
Loading Breaking News...

عالمی سمندروں کا درجہ حرارت بلند ترین سطح پر، ایل نینو کا اثر

News Image
یورپی موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں کا درجہ حرارت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ سنگ میل کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام اور سمندری حیات پر بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کی ایک واضح علامت ہے۔
عالمی سطح پر ماحولیاتی تغیرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زمین کا سب سے بڑا ایک نظام شدید بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ تازہ ترین سائنسی اطلاعات کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تشویشناک صورتحال کے پیچھے ایک بڑا محرک ایل نینو کا فعال ہونا اور اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندروں کے گرم ہونے کا یہ عمل کرہ ارض کے پورے ماحول پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یورپی یونین کے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی معروف سائنسدان ڈاکٹر سمانتھا برجس نے اس سنگ میل پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے سمندروں پر بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کی ایک اور واضح علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے جو حرارت زمین پر پیدا ہو رہی ہے، اس کا غالب حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں۔ سمندروں کے گرم ہونے سے نہ صرف سمندری حیات اور مرجان کی چٹانیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ سمندری طوفانوں کی شدت میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاربن کے اخراج کو فوری طور پر قابو میں نہ لایا گیا تو سمندروں کا درجہ حرارت مزید بڑھے گا، جس سے دنیا بھر کے موسمیاتی پیٹرن بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں شدید خشک سالی، سیلاب اور انتہائی نوعیت کے موسمیاتی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس ماحولیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے۔