Technology
روبوٹس اور جنگی مستقبل: فوجی مقاصد کے لیے انسانی شکل کے روبوٹس کی تیاری
انسان نما روبوٹس نہ صرف کھیلوں کے میدان میں عالمی ریکارڈ توڑ رہے ہیں بلکہ عسکری شعبے میں بھی ان کی جانچ کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ دنیا بھر کی دفاعی ایجنسیاں جنگی حکمت عملیوں میں ان کی شمولیت کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں انسان نما روبوٹس (ہیومنائڈ روبوٹس) ایک ایسا انقلاب لے کر آ رہے ہیں جس نے روایتی حدود کو عبور کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ روبوٹس نہ صرف مختلف کھیلوں اور مہارت کے شعبوں میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ توڑ رہے ہیں، بلکہ سائنسی اور عسکری حلقوں میں ان کے فوجی استعمال پر بھی سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں جنگی میدان کی پوری تصویر بدل سکتی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دنیا کے کئی ممالک میں مسلح افواج اور دفاعی تحقیقاتی ادارے انسان نما روبوٹس کی تیاری اور ان کی فیلڈ ٹیسٹنگ میں مصروف ہیں۔ ان روبوٹس کو اس طرح ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ وہ خطرناک ترین ماحول میں بھی انسانی فوجیوں کی طرح کام سر انجام دے سکیں۔ بارودی سرنگیں صاف کرنے، مشکل اور ناہموار راستوں پر سامان پہنچانے، اور محاذِ جنگ پر فرنٹ لائن کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ان مشینوں کو ایک مؤثر متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، عسکری مقاصد کے لیے روبوٹس کے اس بڑھتے ہوئے استعمال نے بین الاقوامی سطح پر اخلاقی اور قانونی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرینِ تعلیم، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سائنسدان اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنگوں میں مصنوعی ذہانت اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال انسانی جانوں کے ضیاع میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، دفاعی بجٹ میں اضافے اور تکنیکی دوڑ کے باعث روبوٹکس کے اس شعبے میں سرمایہ کاری دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔