LIVE
Loading Breaking News...

بینکنگ کے ایس ایم ایس ون ٹائم پاس ورڈز کا مستقبل اور نئی تبدیلیاں

News Image
آن لائن بینکنگ میں سیکیورٹی کے لیے استعمال ہونے والے چھ ہندسوں کے ایس ایم ایس کوڈز کا نظام تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ مالیاتی ادارے اب صارفین کے لیے مزید محفوظ متبادل طریقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
اگر آپ آن لائن بینکنگ استعمال کرتے ہیں تو آپ کو یہ طریقہ کار اچھی طرح معلوم ہوگا کہ جب بھی آپ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کرتے ہیں یا کوئی بڑی ترسیل کرتے ہیں، تو آپ کو ایک پاس ورڈ درج کرنے کے بعد چھ ہندسوں کے ایک کوڈ کا انتظار کرنا پڑتا ہے جو آپ کے موبائل پر بطور ٹیکسٹ میسج آتا ہے۔ سیکیورٹی کی یہ اضافی تہہ اس بات کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے کہ دراصل آپ ہی اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، اب وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ روایتی طریقہ اب سائبر سیکیورٹی کے جدید تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور سائبر سیکیورٹی کے محققین طویل عرصے سے یہ تنبیہ کرتے آئے ہیں کہ ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے آنے والے ون ٹائم پاس ورڈز ہیکرز کے حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ سم سوائپنگ اور میسج انٹرسیپشن جیسے طریقوں سے مجرم ان کوڈز تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کے فنڈز خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بڑے مالیاتی ادارے اور بینک اب روایتی ایس ایم ایس پیغامات سے ہٹ کر زیادہ جدید اور ناقابلِ تسخیر توثیقی طریقوں کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں تاکہ صارفین کے اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ متبادل طریقوں میں سیکیورٹی ایپلی کیشنز، بائیو میٹرک توثیق اور ہارڈ ویئر کیز کا استعمال سرفہرست ہے۔ یہ تمام طریقے نہ صرف تیز رفتار ہیں بلکہ ان میں ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں صارفین کو اپنے بینکنگ اکاؤنٹس تک رسائی کے لیے ان ہی جدید طریقوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو آن لائن فراڈ کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر دیں گے۔ بینکنگ سیکٹر میں ہونے والی اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے لیے ڈیجیٹل بینکاری کو زیادہ آسان اور فول پروف بنانا ہے۔