LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں اسپائکنگ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، ایک تہائی متاثرین مرد

News Image
برطانیہ میں نشہ آور اشیاء ملا کر دیے جانے والے واقعات یعنی اسپائکنگ کے کیسز میں وبا کے بعد سے چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پولیس کو رپورٹ کرنے والے متاثرین میں ایک تہائی تعداد مردوں کی ہے۔
برطانیہ میں اسپائکنگ یعنی افراد کو ان کی مرضی کے خلاف نشہ آور ادویات یا اشیاء پلانے کے بحران میں انتہائی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تازہ ترین سرکاری اور پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، کرونا وبا کے بعد سے اس نوعیت کے درج ہونے والے کل کیسز میں چار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے سکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اب پولیس سے رجوع کرنے والے اور رپورٹ درج کرانے والے کل متاثرین میں سے ایک تہائی تعداد مردوں کی ہے۔ ماضی میں اس جُرم کو عام طور پر خواتین تک محدود سمجھا جاتا تھا لیکن اب اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ مرد بھی اس گھناؤنے فعل کا برابر نشانہ بن رہے ہیں۔ ماہرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پب، بارز اور نائٹ کلبس میں اس طرح کے جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں جہاں مجرم بے خبری میں لوگوں کے مشروبات میں نشہ آور اشیاء ملا دیتے ہیں۔ پولیس حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ متاثرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے واقعات کی اطلاع حکام کو دیں تاکہ وقت پر طبی امداد کے ساتھ ساتھ مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے نائٹ لائف کے شعبے میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے اور عوام میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کی مہمات شروع کی جا رہی ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مؤثر سدباب کیا جا سکے اور شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔