World
بائبل اور خلائی مخلوق: سابق چرچ رہنما کا حیران کن دعویٰ
برطانیہ کے ایک سابق چرچ رہنما پال والیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بائبل کے اندر ایسے خفیہ اشارے موجود ہیں جو خلائی مخلوق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت کو اس سچائی کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ ماضی میں انسانوں کا غیر زمینی مخلوق سے رابطہ رہا ہے۔
برطانیہ کے ایک سابق چرچ رہنما، جن کا نام پال والیس ہے، نے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جس نے دنیا بھر کے مذہبی اور سائنسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بائبل کے پرانے اور پیچیدہ متن میں ایسے کئی خفیہ اشارے موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انسانیت کا ماضی میں آسمان سے اترنے والی mysterious مخلوق کے ساتھ واسطہ پڑ چکا ہے۔ پال والیس، جنہوں نے چرچ کے اندر تیس سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں، کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کے خیالات کو سامنے لانے پر انہیں অতীতে دھمکیاں بھی مل چکی ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
پال والیس کے مطابق، جب بائبل کے اصل عبرانی اور یونانی الفاظ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاتا ہے، تو روایتی مذہبی تشریحات سے ہٹ کر کچھ ایسے معانی سامنے آتے ہیں جو دوسری دنیاؤں کی مخلوقات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جن فرشتوں، آسمانی ہستیوں اور معجزات کا ذکر ملتا ہے، وہ دراصل جدید دور کی زبان میں خلائی مخلوق یا ایسی اعلیٰ ذہین تمدن کی عکاسی کرتے ہیں جو زمین پر تشریف لائے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی متون کو تعصب سے پاک ہو کر پڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانیت اپنے اصل ماضی سے آگاہ ہو سکے۔
اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور غیر زمینی مخلوق پر تحقیق کرنے والے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی کتابوں کی ایسی تشریحات اکثر سائنسی حقائق پر پورا نہیں اترتیں اور یہ محض تخیلاتی باتیں ہیں۔ تاہم، پال والیس کا عزم ہے کہ وہ اپنے موقف پر قائم رہیں گے اور لوگوں کو اس بات کے لیے قائل کریں گے کہ کائنات میں انسانیت اکیلی نہیں ہے اور تاریخ کے مختلف موڑ پر زمینی مخلوقات کا سامنا دوسری دنیا کی طاقتوں سے ہوتا رہا ہے۔