Technology
ایمازون نے ایکو اور کِنڈل مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا
معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے اپنی مشہور ڈیوائسز ایکو، فائر ٹی وی اور کِنڈل کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ صارفین کے لیے یہ سال مالی مشکلات کا شکار رہا ہے کیونکہ ایپل اور ڈیل سمیت دیگر کمپنیاں بھی قیمتیں بڑھا چکی ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے اپنی مقبول ترین پروڈکٹ لائنز جن میں ایکو، فائر ٹی وی اور کِنڈل شامل ہیں، کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ کچھ مصنوعات کے لیے یہ اضافہ ساٹھ فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے دنیا بھر کے ٹیکنالوجی سے محبت کرنے والے صارفین کو شدید مالی دھچکا لگا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ڈیوائسز میں ایکو ڈاٹ سرفہرست ہے جس کی نئی قیمت صارفین کے لیے کافی زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ اس اضافے نے مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیر دی ہے کیونکہ صارفین پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ رواں سال صارفین کے لیے مالی طور پر کافی مشکل ثابت ہوا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں مسلسل اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ایمازون سے پہلے ایپل، ڈیل، ایچ پی اور ایسوس جیسی نامور کمپنیاں بھی اپنے مختلف ہارڈ ویئر اور آلات کی قیمتیں بڑھا چکی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی چین کے مسائل بتائے جاتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون کے اس اقدام سے سمارٹ ہوم ڈیوائسز کی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک طرف جہاں عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف ایمازون کا یہ فیصلہ کمپنی کے منافع کے مارجن کو بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل صارفین اور تجزیہ کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا اس قیمت کے اضافے کے بعد صارفین اس برانڈ کی مصنوعات کو خریدنا جاری رکھتے ہیں یا پھر مارکیٹ میں موجود دیگر سستے متبادل کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ایمازون کی جانب سے اس قیمت میں اضافے پر باضابطہ ردعمل اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی رپورٹس سے یہ واضح ہے کہ اس فیصلے نے سمارٹ ڈیوائسز کی خریداری کے رجحان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔