LIVE
Loading Breaking News...

صحافت کے بنیادی اصول اور عوامی اعتماد: این رام کا مؤقف

News Image
معروف صحافی این رام نے زور دیا ہے کہ میڈیا کو عوامی اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے زمینی رپورٹنگ اور تحقیقی صحافت کی طرف واپس جانا ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی صحافتی اقدار کی پاسداری ہی میڈیا کی ساکھ کو بچا سکتی ہے۔
معروف اور تجربہ کار صحافی این رام نے حالیہ اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ میڈیا کو اپنے کھوئے ہوئے عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے صحافت کے بنیادی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں خبروں کی تیز رفتار ترسیل کے دباؤ میں روایتی صحافت کے تقاضے پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں، جنہیں دوبارہ زندہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گراؤنڈ رپورٹنگ، تحقیقی اپروچ، طویل دورانیے کی اور تفصیلی صحافت ہی وہ واحد راستے ہیں جو قارئین اور ناظرین کے دلوں میں میڈیا کے لیے اعتبار دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں۔ این رام کے مطابق صحافت میں سچائی، گہرائی اور تحقیق کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ آج کے اس دور میں جہاں سوشل میڈیا اور فیک نیوز کا بول بالا ہے، مستند اور مصدقہ خبریں فراہم کرنے کی ذمہ داری مرکزی دھارے کے میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک صحافی خود میدان میں اتر کر حقائق کی تہہ تک نہیں پہنچیں گے اور عوامی مسائل کو گہرائی سے اجاگر نہیں کریں گے، اس وقت تک میڈیا سے وابستہ ابہام اور بے اعتمادی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وضاحتی تحریریں (explanatory writing) قارئین کو پیچیدہ امور کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت فکری مباحثہ پیدا کرتی ہیں۔ میڈیا کے اداروں کو چاہیے کہ وہ وقتی سنسنی خیز خبروں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ صحافت کو اپنا شعار بنائیں۔ این رام کا یہ تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر صحافتی اداروں کو اپنی ساکھ اور معروضی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر میڈیا نے اپنی سمت درست نہ کی تو جمہوریت کے اس چوتھے ستون کی اہمیت مزید کمزور ہو جائے گی، اس لیے ضروری ہے کہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو دی ایمانداری اور اصول پسندی کے ساتھ انجام دیں۔