LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں گرمی کا بڑھتا ہوا قہر اور ایئر کنڈیشنگ کی اہمیت

News Image
برطانیہ میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر نے ملک میں ایئر کنڈیشنگ کے استعمال سے متعلق دیرینہ تحفظات کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین اور تھنک ٹینک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر کولنگ سسٹمز اب عیش و آرام نہیں بلکہ ضرورت بن چکے ہیں۔
برطانیہ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور شدید ہیٹ ویو نے ملک بھر میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا اب برطانوی معاشرے کو ایئر کنڈیشنگ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ روایتی طور پر برطانیہ میں گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنگ کو غیر ضروری عیش و آرام یا ماحول دشمن سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم اب بدلتے ہوئے موسمی حالات نے اس سوچ کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ توڑ گرمی نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے، جس کے بعد اس موضوع پر سنجیدہ سوچ بچار شروع ہو گئی ہے۔ سینٹر فار برٹش پروگریس سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ لارنس اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ٹھنڈک کے روایتی طریقوں اور ایئر کنڈیشنگ سے گریز کرنے کی روش اب ایک طرح کی ہٹ دھرمی بن چکی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، تو ہمیں اس سے بچاؤ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی قرار دینا چاہیے۔ صحت کے ماہرین بھی خبردار کر رہے ہیں کہ شدید گرمی بالخصوص بزرگوں اور بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے گھروں اور پبلک مقامات پر درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود اب بھی کچھ چیلنجز موجود ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا زیادہ استعمال اور کاربن کے اخراج میں اضافہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنگ کے استعمال سے بجلی کے گرڈ پر دباؤ بڑھے گا اور ماحولیاتی اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس حامیوں کا اصرار ہے کہ اب زیادہ توانائی کی بچت کرنے والے اور ماحول دوست ایئر کنڈیشنگ یونٹس مارکیٹ میں آ چکے ہیں جن کا استعمال اس مسئلے کا حل فراہم کر سکتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ عمارتوں کے ڈیزائن میں ایسی تبدیلیاں لائیں جو قدرتی طور پر گھروں کو ٹھنڈا رکھ سکیں اور ساتھ ہی جدید کولنگ سسٹمز کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ آنے والے برسوں میں برطانیہ کی تعمیراتی صنعت اور توانائی کی پالیسیوں میں اس بحث کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ شہریوں کی صحت اور تحفظ اب سب سے بڑی ترجیح بن چکی ہے۔