Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، تیل کی قیمتوں کا اثر
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملکی سیاسی غیر یقینی کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کیے جانے کے باعث مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حالیہ کاروباری سیشن کے دوران تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی کی فضا کے باعث مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ چند روز کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں کبھی خریداری کا رجحان تو کبھی فروخت کا دباؤ غالب رہا۔ معاشی ماہرین کے مطابق سرمایہ کار موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے معاشی اشاریوں پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث تجارتی خسارے اور مہنگائی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، جس کا اثر براہ راست کارپوریٹ سیکٹر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے مارکیٹ میں اکثر اوقات فروخت کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور انڈیکس منفی زون میں چلا جاتا ہے۔
دوسری جانب، سیاسی غیر یقینی کے بادل بھی سرمایہ کاری کے ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کاروباری برادری ہمیشہ سے معاشی استحکام کے لیے سیاسی تسلسل اور پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیتی آئی ہے۔ سیاسی محاذ پر کشیدگی اور غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے نئے سرمائے کی آمد میں سستی دیکھی جا رہی ہے اور بڑے سرمایہ کار کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
اس کے باوجود، تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پی ایس ایکس میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع اب بھی موجود ہیں اور مثبت معاشی اصلاحات سے مارکیٹ میں بحالی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقداماتے مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کار آنے والے دنوں میں سیاسی اور معاشی محاذ پر آنے والی نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔