LIVE
Loading Breaking News...

موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کر دی

News Image
عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بہتر ہوتی ہوئی حکمرانی اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی معیشت کے استحکام اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی بہتر صلاحیت کو ظاہر کرنا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پیر کے روز پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے ون (Caa1) سے بڑھا کر بی تھری (B3) کر دیا ہے جبکہ ملک کا آؤٹ لک مستحکم رکھا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس اپ گریڈ کی بنیادی وجہ حکمرانی کے معیار میں بہتری کی توقعات ہیں جس سے حکومت کو ملک کے بیرونی پوزیشن میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے بیرونی خطرات میں اگست 2025 کے بعد سے نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ موڈیز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مثبت تبدیلیاں پائیدار معاشی استحکام کی وجہ سے رونما ہو رہی ہیں اور گھریلو مالیاتی لاگت میں کمی نے قرضوں کی فراہمی کو بھی بہتر بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قرضوں کی قابلِ برداشت صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور ملک نے بیرونی جھٹکوں کے خلاف پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو جولائی 2025 میں 14 ارب ڈالر تھے، جولائی 2026 کے آخر تک بڑھ کر تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو کہ تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ بیرونی خطرات کا اشاریہ جو 2025 میں 230 فیصد تھا، بہتر ہو کر 2026 میں تقریباً 145 فیصد پر آ گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام پر مسلسل عمل درآمد سے پالیسی کے اعتبار میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان نے بین الاقوامی مارکیٹ میں دوبارہ رسائی حاصل کرتے ہوئے یورو بانڈز اور پانڈا بانڈز کا اجرا بھی کیا ہے۔ ایجنسی نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2027 اور 2028 کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھ کر 19 سے 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ ان تمام بہتریوں کے باوجود پاکستان کا کریڈٹ پروفائل کمزور بیرونی پوزیشن، ریونیو کی کم بنیاد اور سرمایہ کاری کے حصول میں رکاوٹوں کی وجہ سے اب بھی بعض خطرات سے دوچار ہے۔ اس کے باوجود، حکومتی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کی بدولت معیشت کو طویل مدتی استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے میں مدد مل رہی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔