Technology
نویڈیا اے آئی سرورز کی قیمتیں بڑھ گئیں، ٹیکنالوجی خبریں
مائیکروسافٹ اور گوگل جیسے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے اے آئی سرورز بنانے والی کمپنیوں نے قیمتوں میں پندرہ فیصد سے زائد اضافے سے آگاہ کر دیا ہے۔ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی لاگت کو اس اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
معروف ٹیکنالوجی کمپنی نویڈیا کے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سرورز کی قیمتوں میں پندرہ فیصد سے زائد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے دنیا بھر کے بڑے ڈیٹا سینٹر آپریٹرز متاثر ہوں گے جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور سسٹمز پر انحصار کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی لاگت اور پیدابی اخراجات میں اضافے کے باعث ناگزیر ہو گیا ہے۔
وہ کمپنیاں جو مائیکروسافٹ کارپوریشن، الفابیٹ کے گوگل اور اوریکل کارپوریشن جیسے بڑے اداروں کے لیے معاہدے کے تحت سرورز تیار کرتی ہیں، انہوں نے حال ہی میں اپنے صارفین کو قیمتوں میں متوقع اضافے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ہارڈویئر بالخصوص اے آئی کے لیے درکار خصوصی چپس کی طلب میں ریکارڈ اضافے نے سپلائی چین پر شدید دباؤ ڈالا ہے جس سے پیداواری لاگت آسمان کو چھونے لگی ہے۔
واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے اے آئی سسٹمز کو مزید طاقتور بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ نویڈیا کے تیار کردہ جدید ترین سسٹمز اور چپس اس وقت اس پوری صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سرورز کی قیمتوں میں اضافے سے ان کمپنیوں کے مالیاتی تخمینے متاثر ہو سکتے ہیں جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز چلا رہی ہیں اور اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے مسلسل نئے سرورز خرید رہی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی قیمتیں آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی مارکیٹ کے رحجانات پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔ اگرچہ اے آئی کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی لاگت کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس صورتحال سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر سیمکنڈکٹر اور میموری چپس کی صنعت کو کس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔