LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ اور جوابی ٹیرف کے معاشی اثرات

News Image
کینیڈا نے واشنگٹن کے نئے ٹیرف کے جواب میں ڈالر کے مقابلے میں ڈالر کا جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوںممالک کے درمیان جاری اس تجارتی تنازع سے دونوں معیشتوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور پر کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب کینیڈین حکام کی جانب سے واشنگٹن کے نئے کسٹم ٹیرف کے جواب میں سخت جوابی اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل اور شدید نوعیت کے مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد، اب جوابی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ ڈالر کے مقابلے میں ڈالر کے حساب سے لگائے جائیں گے۔ اس پیش رفت نے شمالی امریکہ کے دونوں قریبی تجارتی حلیفوں کے مابین اقتصادی تعلقات کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس تجارتی تنازع کے نتیجے میں سرحدی تجارت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں میں بے یقینی کی فضا پھیل رہی ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ ابتدائی محصولات نے کینیڈین برآمدات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے بعد کینیڈا کے پاس جوابی اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے جوابی ٹیرف سے دونوں ممالک میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔ صنعتی شعبے سے وابستہ افراد بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ دونوں معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ سپلائی چین کے ذریعے گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ خام مال، گاڑیوں کے پرزہ جات اور توانائی کی ترسیل کے شعبے اس تجارتی محاذ آرائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کشیدگی کے معاشی اور سیاسی اثرات صرف کینیڈا اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان آنے والے دنوں میں سفارتی اور تجارتی سطح پر مزید بات چیت کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ اس تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور دونوں معیشتوں کو کسی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔