Business
پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجراء اور زرعی اصلاحات
وزیر اعظم پاکستان نے ملک میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد زیتون کی کاشت کو فروغ دے کر قیمتی زرمبادلہ کی بچت کرنا اور زرعی تحقیق کے اداروں کی اصلاح کرنا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے ملک کے زرعی شعبے میں انقلاب برپا کرنے اور اسے جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں زیتون کی کاشت کو وسیع پیمانے پر فروغ دینا اور اس کے پیداواری عمل کو بہتر بنانا ہے تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کیا جا सके۔ ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے نفاذ سے پاکستان کو زیتون کے تیل اور دیگر مصنوعات کی درآمدات میں کمی کر کے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچانے میں بڑی مدد ملے گی۔
افتتاحی تقریب اور اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ ملک کے روایتی زرعی نظام میں فوری طور پر جدید اصلاحات متعارف کروائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے بغیر ملکی معیشت کا استحکام ممکن نہیں ہے، اس لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نے این اے آر سی (NARC) کے نئے ماسٹر پلان کی بھی منظوری دے دی ہے جس سے اسلام آباد اور گردونخوا میں زرعی تحقیقاتی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملے گی اور کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس کے دوران اس امر پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی کہ اگر پاکستان میں زیتون کی کاشت کو مناسب طریقے سے پھیلایا جائے تو ملک زرعی اجناس کی برآمد میں خود کفিল ہو سکتا ہے۔ صنعتی ماہرین اور زرعی محققین نے اس بات کی تائید کی ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں ایکڑ بنجر زمین زیتون کے باغات کے لیے انتہائی موزوں ہے، جہاں جدید تکنیک اور قطری آبپاشی کے نظام کے ذریعے بہترین فصل حاصل کی جا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاروں کو آسان شرائط پر قرضے اور سہولیات فراہم کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
آخر میں وزیر اعظم نے ملک کے تمام زرعی ریسرچ اداروں کو یکسر تبدیل کرنے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی سخت ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طریقوں کو چھوڑ کر جدید سائنسی تحقیق کو کسانوں کی دہلیز تک پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حکومت کی یہ جامع زرعی پالیسی نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ کسانوں کی فی کس آمدنی میں اضافے کا بھی باعث بنے گی، جس سے دیہی علاقوں میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔