Pakistan
صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی ملاح: پاکستان کا آئی ایم او سے مداخلت کا مطالبہ
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ سے ملاقات میں صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی ملاحوں کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔ حکومت پاکستان نے اس سنگین انسانی معاملے پر عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
نظامِ حکومت اور وزارت خارجہ کی سطح پر سمندر پار پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، اور حالیہ دنوں میں صومالی قزاقوں کے قبضے میں پھنسے پاکستانی ملاحوں کا معاملہ شدت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اپنے دورہ برطانیہ کے دوران اہم مصروفیات میں مصروف ہیں، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اس اہم مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
دورہ برطانیہ کے دوران، اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سربراہ سے خصوصی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پاکستانی ملاحوں کی فوری اور بحفاظت رہائی کے لیے آئی ایم او سے 'فوری مداخلت' کی پرزور درخواست کی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور قزاقوں کے قبضے میں موجود ملاحوں کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب سفارتی اور بین الاقوامی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے حکام کے ساتھ اس اعلیٰ سطح کے رابطے کو پاکستان کی نئی سفارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سمندری حدود میں سکیورٹی اور پاکستانی شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اسحاق ڈار کے اس دورے میں برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، تاہم صومالی قزاقوں کے معاملے پر فوری توجہ حاصل کرنا اس وقت حکومتِ پاکستان کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہے۔
خاندانی ذرائع اور وزارت خارجہ کے مطابق، حکومت قزاقوں کے قبضے میں موجود ملاحوں کے اہل خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ عالمی اداروں کی مداخلت اور پاکستان کی موثر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ان ملاحوں کی جلد بازیابی ممکن ہو سکے گی تاکہ وہ اپنے خاندانوں کے پاس بحفاظت واپس پہنچ سکیں۔