LIVE
Loading Breaking News...

مسلم دنیا کی نئی دفاعی صف بندی اور مکہ معاہدہ

News Image
مسلم دنیا میں طاقت کا نیا جغرافیہ ابھر رہا ہے جہاں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مبینہ طور پر ایران کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ یہ پہلا مشرق وسطیٰ کا اتحاد ہے جسے واشنگٹن کی اجازت یا شمولیت کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
مسلم دنیا میں طاقت اور اثر و رسوخ کا ایک نیا جغرافیہ تیزی سے ابھر رہا ہے، جس نے عالمی سطح پر سیاسی اور دفاعی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر ایران کو نو تشکیل شدہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پیشرفت کو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں مسلم ممالک خود اپنے دفاع اور خطے کے استحکام کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کا پہلا ایسا بڑا دفاعی اتحاد ہے جو روایتی طور پر واشنگٹن کی منظوری یا سرپرستی کے بغیر تشکیل پا رہا ہے۔ اس نئے اتحاد کو لے کر بین الاقوامی میڈیا میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ مبصرین اسے مسلم دنیا میں خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض تجزیہ کار اس کے استحکام اور 'کریڈیبلٹی' کے حوالے سے سوالات بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا مختلف مفادات کے حامل یہ ممالک ایک پلیٹ فارم پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوں گے۔ تاہم، اسلام آباد، انقرہ اور ریاض کے درمیان بڑھتا ہوا یہ سفارتی اور دفاعی توازن خطے کے روایتی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص ایران کو اس دائرے میں شامل کرنے کی کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ خطے کے بڑے ممالک باہمی کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان کا اس سارے منظر نامے میں ایک کلیدی سفارتی کردار مانا جا رہا ہے، جو خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نئے اتحاد کے خدوخال اگرچہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں، لیکن اس بات کے آثار نمایاں ہیں کہ آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا اپنے دفاعی فیصلے خود کرنے کی سمت میں سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آنے کی امید کی جا رہی ہے بلکہ معاشی اور عسکری تعاون کے نئے دروازے بھی کھلیں گے، جو طویل مدتی امن کے لیے ناگزیر ہیں۔