World
روس کا یوکرین میں کمزور انفراسٹرکچر ضبط کرنے کا اعلان
یوکرین کے خلاف جاری بمباری کے تناظر میں روس کا کہنا ہے کہ وہ ناکافی دفاعی یا خراب تنصیبات کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے۔ حکام کے مطابق جو مالکان نقصان کی مرمت میں سستی کا مظاهره کریں گے وہ اپنے اثاثوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ماسکو: یوکرین کے تنازعے کے دوران صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ رپورٹس کے مطابق روسی حکام کی جانب سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ضبط کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جو جنگی حالات کے پیش نظر مناسب تحفظ کی حامل نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدامات اسٹریٹجک اور حفاظتی نقطہ نظر سے کیے جا رہے ہیں تاکہ جنگی زون میں موجود اہم اثاثوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگر مالکان اپنی عمارتوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں تاخیر یا سستی کا مظاہرہ کریں گے تو انہیں قانونی طور پر ضبط کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کے مختلف شہروں میں بمباری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جس سے پہلے ہی شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ توانائی کی تنصیبات، پانی کے ذخائر اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کے لیے بحران سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے اس قسم کے سخت بیانات اور اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی اور بنیادی ڈھانچے کے کنٹرول کی جنگ بھی بن چکی ہے۔
اس صورتحال نے یوکرینی مالکان اور کاروباری شخصیات کے لیے شدید تشویش پیدا کر دی ہے جن کی املاک جنگی علاقوں میں واقع ہیں۔ بہت سے مالکان کے پاس اس بات کے وسائل یا سکیورٹی موجود نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکیں، اور اب اس نئے حکومتی دباؤ یا روسی قبضے کے خطرے نے ان کی مشکلات میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مبصرین اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس سے جنگ زدہ علاقوں میں انسانی بحران کے ساتھ ساتھ املاک کے حقوق کا ایک نیا قانونی اور سیاسی تنازع بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔