LIVE
Loading Breaking News...

غزہ پناہ گاہ پر اسرائیلی حملہ اور بڑھتے ہوئے جانی نقصان کی تفصیلات

News Image
اکتوبر 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک غزہ میں ایک ہزار دو سو سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس نے خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
غزہ کی پناہ گاہوں پر ہونے والے تازہ ترین اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور جانی نقصان کی فہرست لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک ایک ہزار دو سو سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت پائی جاتی ہے اور لوگ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس تازہ حملے میں پناہ گاہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں بڑی تعداد میں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں طبی عملے کو ادویات اور طبی آلات کی کمی کا سامنا ہے۔ مقامی شہریوں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ علاقائی مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اس طرح کے پے در پے حملے امن کی تمام کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور اس جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرین تک بلا تعطل امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔