LIVE
Loading Breaking News...

لنڈا میک موہن کی کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی حمایت

News Image
امریکی تعلیم کی سیکرٹری لنڈا میک موہن نے اتوار کے روز کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی طلباء کو کیسے متاثر کرتی ہے، لیکن اس کے فوائد اہم ہیں۔
امریکی محکمہ تعلیم کی سیکرٹری لنڈا میک موہن نے اتوار کے روز ایک بیان میں کلاس رومز کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے رجحان اور استعمال کی بھرپور ستائش کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فی الحال اس امر کے بہت کم شواہد دستیاب ہیں کہ یہ جدید ٹیکنالوجی براہ راست طلباء کی تعلیمی صلاحیتوں اور ذہنی نشوونما کو کس طرح متاثر کر رہی ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب والدین، اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کیا بچوں کو نئے اے آئی چیٹ بوٹس کے تجربات کے لیے بطور تجرباتی جانور استعمال کیا جا رہا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس سائنسی تحقیق اور طویل مدتی اثرات کے تخمینے کے، اسکولوں میں ان سسٹمز کا بے دریغ نفاذ بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، حامیوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت طلباء کو انفرادی توجہ فراہم کرنے، پیچیدہ موضوعات کو آسان بنانے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں ایک انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔ لنڈا میک موہن نے اس بحث کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی نظام کو وقت کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے اور ٹیکنالوجی سے منہ موڑنے کے بجائے اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اسکولوں میں استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز طلباء کے لیے محفوظ ہوں اور ان کے مثبت نتائج برآمد ہوں۔