LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ میں شرح پیدائش میں کمی اور معاشی اثرات

News Image
نیوزی لینڈ میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے مستقبل میں افرادی قوت کی شدید کمی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور سماجی محاذ پر سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ میں حالیہ برسوں کے دوران شرح پیدائش میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے، جو کہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں ملک کو شدید معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کاروباروں اور اداروں کو اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا کیونکہ ضرورت پڑنے پر نئے ملازمین یا افرادی قوت آسانی سے دستیاب نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے ایک اداریے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنی سوچ اور طرزِ عمل میں بڑی تبدیلی لانی ہوگی۔ مستقبل میں جب بھی کسی کاروبار کو توسیع کی ضرورت ہوگی یا کسی معاشی مسئلے کا سامنا ہوگا، تو زیادہ لوگ بھرتی کرنے کا آپشن شاید میسر نہ ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں نوجوان آبادی کا تناسب کم ہو رہا ہے اور بزرگ شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت اور کاروباری طبقے کو مل کر طویل مدتی حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھا جا سکے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور افرادی قوت پر انحصار کم کرنے کے لیے جدید سائنسی حل تلاش کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، خاندانوں کو معاونت فراہم کرنے کے لیے ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو بچوں کی پرورش میں آسانی فراہم کریں۔ نیوزی لینڈ کا یہ مسئلہ دراصل دنیا کے کئی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہے جہاں آبادی میں کمی ایک بڑا قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔