Politics
برنی سینڈرز کا ٹرمپ کو چیلنج، ڈیٹا سینٹرز کے بیان پر شدید تنقید
سینیٹر برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید تنقید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر شخص کو اپنے گھر کے پچھواڑے میں بڑے ڈیٹا سینٹرز بنانے پر آمادہ ہونا چاہیے۔ ڈیٹا سینٹرز کا یہ متنازعہ مسئلہ حالیہ دنوں میں سیاسی جماعتوں کی حدود سے بالاتر ہو کر ایک اہم بحث بن چکا ہے۔
امریکی سیاست میں ایک بار پھر ڈیٹا سینٹرز کے قیام اور ان کے اثرات پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کوہدف تنقید بنایا جس میں سابق صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ہر شہری کو اپنے گھر کے قریب یا پچھواڑے میں اس قسم کے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی موجودگی پر آمادہ ہونا چاہیے۔ برنی سینڈرز نے اس مؤقف کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر توانائی اور وسائل استعمال کرنے والے ان مراکز کے قریبی آبادیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈیٹا سینٹرز کا یہ حساس مسئلہ اب کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہا بلکہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں حلقوں میں اس پر تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں مقامی کمیونٹیز کی طرف سے ان منصوبوں کے خلاف آوازیں بلند کی گئی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اور ماحولیاتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برنی سینڈرز کی جانب سے اس معاملے پر کھل کر بات کرنے سے ایک بار پھر عوامی سطح پر اس بحث کو تقویت ملی ہے کہ آیا اس طرح کی بڑی ٹیک تنصیبات کو آبادی والے علاقوں کے قریب تعمیر کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہے یا نہیں۔