LIVE
Loading Breaking News...

AI ماڈلز اور کاپی رائٹ شدہ کتابیں: کیا قانون اجازت دیتا ہے؟

News Image
مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے کتابوں اور شائع شدہ مواد کے استعمال پر قانونی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں کاپی رائٹ کے قوانین اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
آج کل یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ چیٹ جی پی ٹی، جেমینی اور کلاڈ جیسے طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو اربوں شائع شدہ اور کاپی رائٹ شدہ کتابوں پر تربیت دی جا رہی ہے۔ اس عمل میں بڑے پیمانے پر پبلشرز اور مصنفین کی رضامندی یا اجازت کے بغیر ان کا تخلیقی مواد استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مصنفین اور تکنیکی اداروں کے درمیان قانونی جنگیں شروع ہو چکی ہیں۔ پبلشرز اور تخلیق کاروں کا مؤقف ہے کہ ان کی محنت اور املاک کو بلا معاوضہ اور اجازت کے استعمال کرنا صریحاً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب، بڑی ٹیک کمپنیوں کا یہ مؤقف ہے کہ عوامی سطح پر دستیاب معلومات اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنا فیئر یوز کے دائرے میں آتا ہے، اور جدید ترین اے آئی سسٹمز کی تخلیق کے لیے اس قسم کے وسیع ڈیٹا بیس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز صرف معلومات سیکھتے ہیں اور اسے ہو بہو کاپی نہیں کرتے، اس لیے روایتی کاپی رائٹ قوانین کا اطلاق اس نئے شعبے پر ہو بہو نہیں ہو سکتا۔ اس قانونی ابہام نے عدالتوں اور قانون ساز اداروں کو بھی مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ کس طرح تخلیق کاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ تکنیکی ترقی کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہ آئے کیونکہ دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل کے حق میں مضبوط وکالت کر رہے ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال کا حل تلاش کرنے کے لیے اب مختلف ممالک میں نئی پالیسیاں اور قانونی مسودے تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور کاپی رائٹ ہولڈرز کے درمیان مفاہمت کی کوئی راہ نکالی جا سکے۔ کچھ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ٹیک کمپنیوں کو مصنفین اور پبلشرز کے ساتھ لائسنسنگ کے باقاعدہ معاہدے کرنے چاہئیں تاکہ ہر فریق کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے چھوٹی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گی۔ آنے والے مہینوں میں عدالتوں کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی دنیا کس سمت آگے بڑھے گی اور اس کے اثرات دنیا بھر کے تخلیق کاروں پر کیا ہوں گے۔