AI
مصنوعی ذہانت اور ملازمتیں: اسٹینفورڈ کے ماہرین کی نئی رپورٹ
معروف ماہر معاشیات ایرک برائنجولفسن نے اسٹینفورڈ ڈیجیٹل اکانومی لیب کی تحقیق کی روشنی میں کہا ہے کہ پوری معیشت میں ملازمتوں کے خاتمے کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا۔ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے نوکریوں کے مکمل انخلا یا قیامت خیز منظر نامے کا امکان اب کم نظر آتا ہے۔
معروف ماہر معاشیات ایرک برائنجولفسن نے حالیہ تحقیق کے بعد یہ عندیہ دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی وجہ سے نوکریوں کے بڑے پیمانے پر خاتمے کا جو خوف پایا جا رہا تھا، اس کی حقیقت میں کوئی مضبوط بنیاد دکھائی نہیں دیتی۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسٹینفورڈ ڈیجیٹل اکانومی لیب کے محققین کے ساتھ مل کر کیے گئے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تاحال معیشت کے اندر ملازمتوں کی بربادی کے کوئی واضح آثار موجود نہیں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے اس دور میں ملازمتوں کی نوعیت ضرور تبدیل ہو رہی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسانوں کے لیے روزگار کے مواقع یکسر ختم ہو جائیں گے۔
تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور جেনারেٹو اے آئی سسٹمز نے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اس کے باوجود اقتصادی سطح پر مجموعی طور پر روزگار کے مواقع برقرار ہیں۔ بعض روایتی کاموں میں خودکار نظام کا استعمال بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئی صنعتوں اور شعبوں میں نئے درجے کی ملازمتیں بھی تخلیق ہو رہی ہیں۔ ایرک برائنجولفسن کے مطابق، یہ تبدیلی دراصل روزگار کے بازار کا ایک ارتقائی عمل ہے نہ کہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ، جہاں انسانوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ مخصوص پیشوں میں ملازمین کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم مجموعی طور پر معیشت اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنے اندر جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے اے آئی کے استعمال کو ایک مددگار ٹول کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں ماہرین کی یہ تازہ آراء ان لوگوں کے لیے ایک تسلی بخش پیغام ہیں جو مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کو لے کر شدید بے روزگاری کے خدشات میں مبتلا تھے۔