Pakistan
میر رضا علی کیس: والد کی جے آئی ٹی کی تاخیر پر شدید تشویش
میر رضا علی کے والد نے اپنے بیٹے کے معاملے میں انصاف کے حصول کے لیے بنائی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقاتی عمل کو شفاف اور فوری بنایا جائے۔
میر رضا علی کے والد نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس اور میڈیا سے گفتگو کے دوران اپنے بیٹے کے کیس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل میں ہونے والی بلا جواز تاخیر پر گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جو اقدامات اٹھانے چاہیے تھے، ان میں سستی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقاتی عمل میں تاخیر انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس سے متاثرہ خاندان شدید ذہنی کوفت اور تکلیف سے گزر رہا ہے۔
متاثرہ خاندان کے سربراہ نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کا قیام اس کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے انتہائی ناگزیر ہے، کیونکہ عام تفتیشی طریقہ کار پر انہیں تحفظات ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور جے آئی ٹی کو فوری طور پر نوٹیفائی کریں تاکہ حقائق عوام اور عدالت کے سامنے آ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو وہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور احتجاج کا دائرہ کار بڑھانے پر مجبور ہوں گے۔
اس معاملے پر قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی ہائی پروفائل کیس میں جے آئی ٹی کا بروقت قیام تفتیش کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، شواہد کے ضائع ہونے یا ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ میر رضا علی کے والد کے ان خدشات نے حکومتی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے، جس کے بعد عوام کی نظریں اب حکام کی جانب سے اٹھائے جانے والے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا انتظامیہ ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جے آئی ٹی کی تشکیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتی ہے یا نہیں، کیونکہ انصاف کی فراہمی میں ہونے والی ہر تاخیر ریاست کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔