Technology
امریکی آٹو سیکٹر میں چینی سینسرز پر تحقیقات کا معاملہ
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی پر پابندیوں کے باوجود آٹو موبائل کمپنیوں کی جانب سے لیڈار سینسرز کے معاملے پر خاموشی برقرار ہے۔ حکام نے ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کو قواعد و ضوابط سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔
جنوری 2025 میں امریکی محکمہ تجارت کے ریگولیٹرز نے امریکی گاڑیوں میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے حتمی ضوابط کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر غیر ملکی ٹیکنالوجی کے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔ تاہم، اس پوری کارروائی کے دوران 'لیڈار' (Lidar) سینسرز کا معاملہ خاص طور پر زیر بحث رہا، کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سینسرز گاڑیوں کی خودکار نیویگیشن اور سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حکام نے اس ٹیکنالوجی کو اپنے حتمی ضوابط سے باہر رکھا اور اسے مستثنیٰ قرار دیا۔
بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ حتمی حکم نامے میں لیڈار سینسرز کو شامل نہ کرنے کے فیصلے پر صنعت کے حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ آٹوموبائل کمپنیاں جو ماضی میں ان چینی ٹیکنالوجیز پر بڑے پیمانے پر انحصار کرتی رہی ہیں، اس وقت اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنیاں حکومتی جانچ پڑتال کے خوف سے محتاط رویہ اپنا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب سپلائی چین میں موجود چینی ٹیکنالوجی کے متبادل تلاش کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیڈار سینسرز، جو گاڑیوں کے گرد و پیش کو دیکھنے اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتے ہیں، اگر ان میں چینی سافٹ ویئر یا ہارڈ ویئر موجود ہو تو یہ حساس ڈیٹا کے حصول کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ امریکہ نے چین کے ساتھ تکنیکی مقابلہ تیز کر دیا ہے، آٹو موبائل سیکٹر میں اس خاص ٹیکنالوجی پر خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریگولیٹرز اس ضمن میں مزید سخت اقدامات کر سکتے ہیں جس سے ان کمپنیوں کو اپنے موجودہ آلات تبدیل کرنے پڑ سکتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں، امریکی آٹو انڈسٹری کو اب ایک دوہرے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف صارفین کی جانب سے جدید ترین خودکار فیچرز کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف حکومت کی جانب سے چینی ساختہ اجزاء پر پابندیاں عائد کرنے کا دباؤ۔ کمپنیاں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا وہ اپنے پرانے چینی سپلائرز کے ساتھ تعلقات برقرار رکھیں یا مقامی سطح پر متبادل تلاش کریں۔ اس پوری صورتحال پر تمام تر نگاہیں اب واشنگٹن کی اگلی پالیسیوں پر مرکوز ہیں جو ممکنہ طور پر لیڈار سینسرز کی سپلائی چین کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہیں۔