Pakistan
میر رضا قتل کیس میں تازہ ترین پیش رفت: جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ
سندھ ہائی کورٹ نے میر رضا کے پراسرار قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ مقتول کے اہل خانہ نے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پیش آنے والے میر رضا کے المناک قتل کے کیس نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حقائق کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔ تاہم، مقتول کے لواحقین نے عدالتی کمیشن پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔ اہل خانہ کا ماننا ہے کہ صرف ایک جے آئی ٹی ہی اس پیچیدہ کیس کی گتھیاں سلجھانے اور اصل قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے میر رضا کی زندگی کے آخری گھنٹوں اور ان کی موت سے قبل پیش آنے والے حالات کو یکجا کرنا شروع کر دیا ہے۔ تفتیش کاروں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد لیتے ہوئے مقتول کا موبائل فون ڈیٹا، سم کارڈز اور واٹس ایپ پیغامات تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ ان شواہد کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آخری لمحات میں ان کا رابطہ کن لوگوں سے رہا اور وہ کن حالات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس کے مطابق یہ ڈیجیٹل شواہد کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس کیس نے شہر میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور شہری حلقے انصاف کے تقاضوں کی جلد تکمیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی اور پولیس کی جانب سے حاصل کردہ ڈیٹا کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ کیس کے اہم کرداروں کی نشاندہی جلد ممکن ہو سکے گی۔ سندھ ہائی کورٹ کا جوڈیشل کمیشن اور پولیس کی تفتیشی پیش رفت دونوں ہی اس کیس میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا عدالت مقتول کے اہل خانہ کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے قیام کا حکم جاری کرتی ہے یا نہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی تفتیش کو حتمی شکل دے کر رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کے پابند ہیں۔