Technology
مصنوعی ذہانت اور بھرتی کے عمل میں خاموشی کی پالیسی
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ملازمین کی بھرتی کے طریقوں نے نوکری کے متلاشیوں کا رویہ یکسر بدل دیا ہے۔ نئی رپورٹس کے مطابق بہت سے امیدواروں کو اب روایتی مسترد کرنے والی ای میلز کی بجائے مکمل خاموشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ملازمت کی تلاش میں نکلنے والے کروڑوں افراد کے لیے ایک نئی اور تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے، جہاں نوکری کے متلاشیوں میں سے نصف کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے نظام کے ذریعے بغیر کسی اطلاع کے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کارپوریٹ سیکٹر میں اے آئی پر مبنی بھرتی کے طریقوں نے جاب سیکرز کے رویے اور تجربات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب نوکری کے لیے اپلائی کرنے والے امیدواروں کو کسی بھی ناگہانی صورت میں یا قابلیت پورا نہ اترنے پر ایک روایتی مسترد کرنے موصول ہوتی تھی، جس سے انہیں اپنے مستستقبل کے لائحہ عمل کا اندازہ ہو جاتا تھا، مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ آج کے دور میں بہت سے امیدواروں کو کسی قسم کا کوئی رسپانس یا ای میل نہیں ملتی، جو کہ ذہنی کوفت اور بے یقینی کی ایک نئی لہر کو جنم دے رہی ہے۔
بھرتی کے عمل میں اے آئی کا یہ بڑھتا ہوا استعمال کمپنیوں کے لیے تو وقت کی بچت اور کارکردگی میں بہتری کا ذریعہ بن رہا ہے، لیکن نوکری کی تلاش میں سرگرداں عام افراد کے لیے یہ ایک غیر انسانی اور تلخ تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔ جدید الگورتھم سوانح حیات (Resumes) کو منٹوں میں اسکین کر کے ناپسندیدہ پروفائلز کو سسٹم سے باہر کر دیتے ہیں، اور اس عمل میں اکثر انسانی عمل دخل بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امیدوار اس بات سے بالکل بے خبر رہتے ہیں کہ ان کی درخواست کو کس وجہ سے مسترد کیا گیا ہے اور آیا ان کا فارم سسٹم تک پہنچا بھی تھا یا نہیں۔ اس خاموش ردِ عمل کی وجہ سے نوکری کے متلاشی افراد شدید ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے لیے کوئی فیڈ بیک نہیں مل پاتا۔
ماہرینِ معاشیات اور انسانی وسائل کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کارپوریٹ اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اس معاملے میں شفافیت کو فروغ نہ دیا، تو اس کے ملازمین اور اداروں کے باہمی اعتماد پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امیدواروں کا یہ حق بنتا ہے کہ کم از کم انہیں یہ تو معلوم ہو کہ ان کی درخواست کس مرحلے پر اور کیوں ناکام ہوئی۔ دوسری جانب، جاب سیکرز بھی اب اس نئی حقیقت سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں، جیسے کہ اے آئی کے مطابق اپنے ریزیومے کو بہتر بنانا تاکہ الگورتھم کے فلٹرز کو باسانی عبور کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے بھرتی کے ان خودکار نظاموں کے لیے کچھ اخلاقی ضابطہ اخلاق اور اصول طے کریں تاکہ امیدواروں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے اور انہیں اس ظالمانہ خاموشی سے نجات دلائی جا سکے۔