LIVE
Loading Breaking News...

نعیمہ خاور کا خواتین کے جسم پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب

News Image
اداکارہ نعیمہ خاور نے سوشل میڈیا پر اپنے جسم میں آنے والی تبدیلیوں پر ہونے والی تنقید پر خاموشی توڑتے ہوئے اسے غیر مناسب قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے جسم میں قدرتی تبدیلیاں آنا ایک معمول کی بات ہے اور اس پر عوامی بحث غیر ضروری ہے۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نعیمہ خاور نے حال ہی میں اپنے ظاہری حلیے اور جسم میں آنے والی تبدیلیوں پر ہونے والی غیر ضروری تنقید پر خاموشی توڑ دی ہے۔ نعیمہ خاور، جو اپنی خوبصورتی اور باوقار شخصیت کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، کو سوشل میڈیا پر اکثر ان کے نئے لُک اور چہرے میں معمولی تبدیلیوں کے باعث بحث کا مرکز بنایا جاتا ہے۔ اداکارہ نے ان تمام تنقید نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایک خاتون کے جسم میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آنا ایک فطری عمل ہے، جسے عوامی بحث کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ نعیمہ خاور نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کے جسم کے بارے میں رائے دے یا اس پر تنقید کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ کسی عوامی تقریب یا سوشل میڈیا پر اپنی تصویر شیئر کرتی ہیں، تو کمنٹ سیکشن میں ان کے جسم کے حوالے سے بے جا تبصرے شروع ہو جاتے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان، خاص طور پر خواتین، کا جسم مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور اس میں آنے والی ہر تبدیلی صحت یا زندگی کے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کرتی ہے، اسے صرف خوبصورتی کے پیمانوں سے جانچنا غلط ہے۔ اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کا جسم کسی بھی طرح عوامی ملکیت نہیں ہے کہ جس پر ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرے۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین کو تلقین کی کہ وہ تنقید کرنے کے بجائے مثبت رویہ اپنائیں اور دوسروں کی پرائیویسی کا احترام کریں۔ نعیمہ خاور کا یہ موقف سوشل میڈیا پر خوب سراہا جا رہا ہے اور کئی مداح ان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں کہ فنکاروں کو بھی ایک عام انسان کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔ اس واقعے کے بعد سے انٹرنیٹ پر 'باڈی پازیٹیوٹی' کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین کا ایک بڑا حصہ نعیمہ خاور کی حمایت کر رہا ہے۔ فنکار برادری کے دیگر لوگوں نے بھی ان کے اس موقف کو درست قرار دیا ہے کہ کسی بھی خاتون کے ظاہری حلیے پر غیر ضروری تبصرے کرنا معاشرتی بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔ نعیمہ خاور نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں اور اپنے جسم کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کافی پراعتماد ہیں اور کسی بھی قسم کی منفی مہم سے متاثر ہونے والی نہیں ہیں۔