LIVE
Loading Breaking News...

جاپان اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی کی کوششیں، جاپانی وفد بیجنگ میں

News Image
جاپان کا ایک کل جماعتی وفد حالیہ دہائیوں کی بدترین سفارتی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بیجنگ پہنچ گیا ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سردمہری کو ختم کرنا اور باہمی تعلقات میں بہتری لانا ہے۔
جاپان کا ایک اعلیٰ سطحی کل جماعتی وفد بیجنگ پہنچ گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد حالیہ دہائیوں میں جاپان اور چین کے درمیان پیدا ہونے والی بدترین سفارتی اور سیاسی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ دونوں ایشیائی طاقتوں کے مابین گزشتہ کچھ عرصے سے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں، جس کی وجہ سے خطے میں عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ جاپان کی جانب سے اس وفد کی روانگی ٹوکیو کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت وہ بیجنگ کے ساتھ مواصلاتی رابطوں کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس دورے کو سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف جغرافیائی اور سیاسی معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ جاپانی حکام کو امید ہے کہ قانون سازوں پر مشتمل یہ وفد چینی قیادت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ایک ایسی فضا پیدا کر سکے گا جس سے مستقبل میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کی راہیں ہموار ہوں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات اگرچہ مضبوط رہے ہیں، تاہم علاقائی دعووں اور دفاعی پالیسیوں نے سفارتی تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹوکیو کی جانب سے تعلقات کو 'ڈی فروسٹ' کرنے یعنی سردمہری کو ختم کرنے کی یہ کوششیں اس وقت کی گئی ہیں جب عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بیجنگ بھی خطے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا خواہاں دکھائی دیتا ہے۔ اس وفد کی بیجنگ آمد ایک ایسا پہلا ٹھوس قدم ہے جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی عمل دوبارہ متحرک ہو سکے گا۔ اب تمام تر نظریں اس دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے اور دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ ایک دورے سے دہائیوں پر محیط تناؤ کا فوری خاتمہ ممکن نہیں، لیکن اس بات چیت کا آغاز کرنا بذات خود دونوں ممالک کی جانب سے ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں عملی طور پر تعلقات میں بہتری لانے میں کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہیں۔