World
کانگو میں ایبولا وائرس کا قہر: ہر دوسرا مریض جان کی بازی ہار رہا ہے
جمہوری جمہوریہ کانگو میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ایبولا وائرس سے متاثرہ تقریباً ہر دوسرا مریض موت کے منہ میں جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ملک میں صحت عامہ کی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایک بار پھر ایبولا وائرس نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں جس کے نتیجے میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایبولا کے مریضوں میں شرح اموات تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یعنی متاثر ہونے والے تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص جان کی بازی ہار رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں موجود طبی نظام پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں اور ماہرین صحت نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایبولا ایک انتہائی مہلک وائرس ہے جو جسمانی رطوبتوں کے رابطے سے تیزی سے پھیلتا ہے۔ کانگو میں حالیہ وبا کے دوران متاثرین کی بڑی تعداد کے بروقت علاج اور طبی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شرح اموات میں اس قدر اضافہ ہوا ہے۔ مقامی ہسپتالوں میں ادویات اور حفاظتی سامان کی کمی کے باعث طبی عملے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹیمیں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم دیہی علاقوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
حکومتی حکام اور عالمی طبی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ ایبولا کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر قرنطینہ مراکز سے رابطہ کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس وبائی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کانگو کو ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد اور ویکسین فراہم کرے تاکہ اس انسانی بحران کو مزید سنگین ہونے سے بچایا جا سکے۔
مستقبل کے حوالے سے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ کانگو کی حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ویکسی نیشن مہم کا آغاز کیا جائے۔ ایبولا کے خلاف اس جنگ میں عوام کا تعاون اور بین الاقوامی سطح پر مالی و فنی معاونت ہی اس مہلک وائرس کو شکست دینے کا واحد راستہ ہے۔