Business
پاکستان میں غیر ملکی پیٹرولیم مصنوعات کی بانڈڈ سٹوریج پالیسی منظور
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے غیر ملکی سپلائرز کو پاکستان میں اپنے خرچ پر بانڈڈ سٹوریج سہولیات قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں توانائی کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور سپلائی چین کو زیادہ لچکدار بنانا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ایک اہم سمری کو منظوری دی گئی۔ اس نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی ایندھن فراہم کرنے والے سپلائرز کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے ذاتی خرچ پر بانڈڈ سٹوریج سہولیات قائم کر سکیں۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ملک کی توانائی کی سیکیورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور تیل و گیس کے شعبے میں سٹریٹجک ذخائر کو بڑھانا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ حال ہی میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پیدا ہونے والی سپلائی کی رکاوٹوں کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر تھا تاکہ مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔
نئی پالیسی کے مطابق، غیر ملکی سپلائرز خام تیل، موٹر اسپرٹ، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، فرنس آئل، ایل پی جی اور ایل این جی سمیت تمام اہم مصنوعات کی درآمد کے اہل ہوں گے۔ یہ سہولیات پورٹ قاسم، کراچی پورٹ، حب، گوادر پورٹ سمیت محمود کوٹ اور ماچھیکے جیسے مقامات پر قائم کی جا سکیں گی۔ پالیسی کے تحت سپلائرز کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی سٹوریج سہولیات خود تیار کریں یا موجودہ نجی و سرکاری بانڈڈ گوداموں کو استعمال کریں۔ اس عمل کے دوران کسٹم ایکٹ 1969 اور متعلقہ پورٹ اتھارٹیز کے قوانین کی پاسداری لازم ہوگی، تاہم غیر ملکی سپلائرز کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت رجسٹریشن سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ ٹیکس نیوٹرل ماحول فراہم کیا جا سکے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولیات نہ صرف مقامی مارکیٹ میں تیل کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائیں گی بلکہ ان مصنوعات کو دوبارہ برآمد (re-export) کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ایف بی آر کی طرف سے کچھ تحفظات کے باوجود، پیٹرولیم وزارت کے اس اقدام کو دیگر تمام متعلقہ اداروں کی حمایت حاصل تھی۔ اس پالیسی سے مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو بھی فائدہ ہوگا، کیونکہ وہ مقامی کرنسی یا غیر ملکی کرنسی میں بانڈڈ گوداموں سے ایندھن حاصل کر سکیں گی۔ اس نظام کو فعال بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے ویب بیسڈ کسٹم سسٹم (WeBOC) میں تکنیکی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ سٹوریج اور ترسیل کے عمل کو شفاف اور جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ پالیسی ملک میں پہلے سے موجود لائسنس یافتہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درآمدی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی، بلکہ یہ ان کے متوازی کام کرے گی۔ غیر ملکی سپلائرز کو قومی پیٹرولیم پائپ لائن نیٹ ورک استعمال کرنے کی بھی اجازت ہوگی تاکہ بانڈڈ انونٹری کو بندرگاہوں سے اندرون ملک مطلوبہ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے پاکستان ایک ریجنل انرجی ہب کے طور پر ابھرے گا اور توانائی کی سپلائی چین میں درپیش خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔