LIVE
Loading Breaking News...

یورپ کے ریلوے ٹریکس سفید کیوں کیے جا رہے ہیں؟ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

News Image
یورپ بھر میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے پیشِ نظر ٹرینوں کے پٹریوں کو سفید رنگ سے پینٹ کیا جا رہا ہے تاکہ سورج کی شعاعوں کو منعکس کر کے دھات کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس جدید حکمت عملی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریکس کی نگرانی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی نے ٹرانسپورٹ کے نظام، بالخصوص ریلوے کو شدید متاثر کیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث دھات سے بنی ہوئی ٹرین کی پٹریاں پھیلنے لگتی ہیں، جس سے ٹرینوں کی رفتار کم کرنا پڑتی ہے یا حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے یورپی ممالک نے ایک انتہائی سادہ مگر مؤثر حل تلاش کر لیا ہے، جس کے تحت ریلوے ٹریکس کو سفید رنگ سے پینٹ کیا جا رہا ہے۔ سفید رنگ سورج کی روشنی اور حرارت کو منعکس کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس سے دھات کا درجہ حرارت کم رہتا ہے اور ٹریکس کے پھیلنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک کم لاگت مگر انتہائی سودمند طریقہ کار ہے جو ریلوے نیٹ ورک کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ماضی میں شدید گرمی کی لہروں کے دوران ٹریکس کے ٹیڑھے ہونے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جس سے ٹرینوں کی آمدورفت تعطل کا شکار ہو جاتی تھی۔ اب جبکہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، ریلوے انتظامیہ نے اس پرانے مگر آزمودہ طریقے کو دوبارہ سے استعمال میں لانا شروع کیا ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ٹرینوں کے نظام الاوقات کو بحال رکھا جا سکے۔ رنگ و روغن کے اس روایتی حل کے علاوہ، یورپی ریلوے نیٹ ورک اب جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کر رہا ہے۔ پٹریوں کی نگرانی کے لیے جدید ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے حامل سسٹمز کا استعمال کیا جا رہا ہے جو ریئل ٹائم میں ٹریکس کے درجہ حرارت اور ساخت میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انتظامیہ کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کسی بھی حادثے سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر سکے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ پیشگوئی بھی کی جا سکتی ہے کہ کون سے ٹریکس کو سب سے پہلے پینٹ کرنے یا مرمت کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ایسی جدید ٹیکنالوجیز اور سادہ حل کا امتزاج وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ یورپ کا یہ تجربہ دنیا بھر کے ان گرم خطوں کے لیے بھی ایک مثال ہے جہاں شدید گرمی کی وجہ سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی اور سائنسی حل بہت مہنگے لگ سکتے ہیں، لیکن سفید رنگ جیسے سادہ اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ حکمت عملی کے ساتھ موسمیاتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ممکن ہے۔