LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بھارت میں روزگار کے نئے رجحانات

News Image
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے بھارت میں روزگار کے مجموعی مواقع بڑھے ہیں، تاہم انٹری لیول پر ملازمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس تبدیلی سے نئے گریجویٹس اور نوجوانوں کے لیے کیریئر کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔
بھارت میں مصنوعی ذہانت (AI) کا تیزی سے فروغ ایک طرف تو معاشی ترقی اور تکنیکی جدت طرازی کا باعث بن رہا ہے، وہیں دوسری طرف لیبر مارکیٹ میں کچھ تشویشناک تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اے آئی ٹیکنالوجی بھارت میں مجموعی طور پر نوکریوں کے ختم ہونے کی نسبت انہیں پیدا کرنے میں زیادہ کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے کے لیے جس قسم کی مہارتوں کی ضرورت ہے، ان کی وجہ سے آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں روزگار کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ تاہم، یہ ترقی یکساں نہیں ہے اور اس کے اثرات مختلف سطحوں پر مختلف طریقے سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انٹری لیول یا نوکری شروع کرنے والے افراد اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جب اے آئی ٹولز عام اور پیچیدہ کاموں کو خود کار طریقے سے انجام دینے لگے ہیں، تو کمپنیوں کو اب جونیئر سطح پر لوگوں کو بھرتی کرنے کی ضرورت کم محسوس ہو رہی ہے۔ پہلے جہاں نئے گریجویٹس کو بنیادی ٹاسک اور ڈیٹا انٹری جیسے کاموں کے لیے ملازمتیں مل جاتی تھیں، اب وہاں اے آئی سافٹ ویئر یہ کام سیکنڈوں میں کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے ان نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور تجربہ حاصل کرنے کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو اب ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اے آئی ٹولز کو چلانے اور ان کے ساتھ کام کرنے کی جدید صلاحیت رکھتے ہوں۔ تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ خود کو مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالیں۔ اگرچہ اے آئی کے نتیجے میں مڈ-لیول اور سینئر سطح پر ماہرین کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن جونیئر سطح پر موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل نظر نہیں آ رہا۔ کارپوریٹ سیکٹر کو اب ایسے گریجویٹس کی تلاش ہے جن کے پاس اے آئی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مہارت ہو، نہ کہ صرف روایتی تعلیمی ڈگریاں۔ مستقبل کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ بھارت کے لیے معاشی فوائد کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، بشرطیکہ ورک فورس کی دوبارہ تربیت (reskilling) پر توجہ دی جائے۔ حکومت اور نجی اداروں کو مل کر ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی جس کے تحت نئے گریجویٹس کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اگر وقت رہتے ہوئے اس خلا کو پُر نہ کیا گیا تو انٹری لیول پر ملازمتوں کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس سے آنے والی نسل کا مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔