World
آنگن واڑی مراکز کی اصلاحات اور بھارت میں غذائی قلت کا خاتمہ
بھارت حکومت اپنے پچاس سالہ پرانے مربوط چائلڈ ڈویلپمنٹ سروسز کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد آنگن واڑی مراکز کو جدید سہولیات کے حامل مراکز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ بچوں میں غذائی قلت کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
بھارت میں گزشتہ پچاس برسوں سے جاری مربوط چائلڈ ڈویلپمنٹ سروسز (ICDS) کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے آنگن واڑی مراکز کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ ان مراکز کو صرف ابتدائی تعلیم کے مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مکمل سپورٹ ہب بنایا جا سکے۔ اس تبدیلی کا سب سے اہم پہلو بچوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غذائی قلت پر قابو پانا ہے، جو کہ طویل عرصے سے ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت ان مراکز کو بہتر طبی سہولیات، متوازن غذا کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ لاکھوں خاندانوں کو براہ راست صحت کے فوائد پہنچائے گا۔ اس منصوبے کے تحت مراکز میں کام کرنے والے عملے کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ جدید اصولوں کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ تاہم، ناقدین اور سماجی کارکنان کا یہ کہنا ہے کہ صرف عمارتوں یا سہولیات میں تبدیلی کافی نہیں ہے۔ مؤثر تبدیلی کا دارومدار بنیادی طور پر ان مراکز میں کام کرنے والے ورکرز کے حالاتِ زندگی اور ان کے وقار کو بہتر بنانے پر ہے۔ اگر آنگن واڑی ورکرز کو مناسب معاوضہ، بہتر مراعات اور کام کا تسلی بخش ماحول فراہم نہیں کیا گیا، تو جدید مراکز کے قیام کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ یہ ورکرز اس پورے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کے بغیر کسی بھی پالیسی کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اصلاحات کے اس عمل میں ورکرز کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے۔ آخر میں، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر یہ اصلاحات درست سمت میں آگے بڑھیں تو بھارت میں بچوں کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھی جا سکے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ ضلعی سطح پر نگرانی کا نظام سخت کرے تاکہ فنڈز کا درست استعمال ہو سکے۔ عوام بھی اس حکومتی اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کو ایک بہتر مستقبل ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان مراکز کی فعالیت میں کس قدر تیزی آتی ہے اور زمینی حقائق کتنی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔