Business
وال اسٹریٹ میں بڑی گراوٹ، فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان
امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد وال اسٹریٹ کے بازار حصص میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران اے آئی سے متعلقہ چپ ساز کمپنیوں کے حصص میں بھی گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا۔
نیویارک (نیکزورا نیوز اردو) امریکی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے بعد وال اسٹریٹ کے اہم اشاریے نمایاں کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں کیونکہ مرکزی بینک کی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کو توقع تھی کہ شاید شرح سود میں کچھ نرمی کی جائے گی لیکن ایسا نہ ہونے پر حصص کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی سے وابستہ چپ ساز کمپنیوں کو بھی حالیہ سیشنز میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے قبل کورین کمپنی ایس کے ہائینکس کے سہ ماہی نتائج میں زبردست اضافے کے باوجود اس شعبے میں منافع کی وصولی کے باعث مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ فیڈرل ریزرو کے سربراہ کیون واش نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر ہونے والے اخراجات دراصل مستقبل کی معاشی ترقی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل مدت میں یہ ٹیکنالوجی معیشت کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی تاہم قلیل مدت میں مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ کی یہ کیفیت برقرار رہ سکتی ہے کیونکہ سرمایہ کار عالمی اقتصادی اشاریوں اور مہنگائی کی شرح پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کاروبار کے اختتام پر تمام بڑے انڈیکس سرخ نشان میں بند ہوئے جس سے سرمایہ کاروں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔