World
امریکہ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان، تیل کی برآمدات ہدف
امریکہ نے ایران کے تیل سمیت تمام ذرائع آمدنی کو نشانہ بنانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد تہران پر اقتصادی دباؤ کو انتہائی حد تک بڑھانا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک نئی اور سخت حکمت عملی کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے تہران کے خلاف عالمی سطح پر اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس جامع پالیسی کا بنیادی مقصد ایران کے تمام ممکنہ ذرائع آمدنی کو منقطع کرنا ہے تاکہ اس کی معیشت پر شدید ترین دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس نئی حکمت عملی کے مرکز میں ایران کی تیل کی برآمدات ہیں، جو ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکہ نے تہران کے تیل کے حصول اور اس کی فروخت کے تمام راستوں کو بند کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ایران کو تنہا کرنا اور اس کی مالیاتی رسائی کو محدود کرنا ہے۔ اس جارحانہ مؤقف کے بعد عالمی منڈی میں بھی ہلچل مچ گئی ہے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے ان ممالک کو بھی خبردار کیا گیا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ امریکی وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے مطابق، یہ اقتصادی دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران اپنی موجودہ پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کرتا۔ دنیا بھر کے اقتصادی ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس جنگ کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن پر براہ راست پڑ سکتے ہیں۔