Pakistan
اڈیالہ جیل میں ایمان مزاری کی صحت اور طبی سہولیات کے مسائل
انسانی حقوق کے کارکنوں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے اہل خانہ نے اڈیالہ جیل میں طبی سہولیات کی ابتر صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری کے طبی معائنے کو یقینی بنایا جائے اور جیل میں قیدیوں کی صحت کے بحران پر قابو پایا جائے۔
اسلام آباد کی اڈیالہ جیل میں قید انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم نے جیل میں موجود طبی سہولیات کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ دونوں کو جنوری میں پیکا ایکٹ کے تحت سنائی گئی سزا کے بعد سے جیل میں رکھا گیا ہے، تاہم وہاں قیدیوں کی صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنگین غفلت برتی جا رہی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، ایمان مزاری گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل صحت کے مسائل کا شکار ہیں، جن کے لیے بروقت اور مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔
اہل خانہ نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ ایمان مزاری کو مسوڑھوں سے خون بہنے کی شکایت تھی جس کے لیے جیل میں کوئی ماہر دندان موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں انہیں پیٹ کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا، جس کے لیے انہیں ایک ایسی دوا دی گئی جو بنیادی طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے مختص ہے اور خواتین کے لیے مضر اثرات کی حامل ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، ایمان کو گزشتہ ایک ہفتے سے سینے کے شدید انفیکشن کا سامنا ہے جس کی تشخیص کے لیے ڈاکٹروں نے بلڈ ٹیسٹ میں سفید خلیات کی تعداد زیادہ بتائی ہے، تاہم جیل انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک ان کا چیسٹ ایکسرے نہیں کروایا گیا جس سے ٹی بی جیسے امراض کے امکانات کو رد کیا جا سکے۔
قانونی ٹیم کا مزید کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے ویمن وارڈ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں متعدی امراض میں مبتلا قیدیوں کو دیگر قیدیوں اور بچوں کے ساتھ ہی رکھا جا رہا ہے، جو کہ ایک بڑے ہیلتھ کرائسز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، جیل میں طبی سہولیات کا فقدان اور ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی سطح پر جیل میں قرنطینہ کے مناسب انتظامات کیے جائیں اور تمام قیدیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحت طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر، وکلاء اور اہل خانہ نے حکومت اور جیل انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری کے فوری طبی معائنے کو یقینی بنایا جائے اور ان کے سینے کے انفیکشن کی تشخیص کے لیے ایکسرے کروایا جائے۔ انہوں نے عدالت عالیہ سے بھی اپیل کی کہ سزاؤں کے معطل ہونے کی درخواستوں پر جلد سماعت کی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور قیدیوں کو مزید طبی اذیت سے بچایا جا سکے۔