LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی: سیکیورٹی خدشات پر حکومتی موقف سامنے آ گیا

News Image
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو سیکیورٹی خدشات کے باعث پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال میں ان کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ کی سہولیات موجود ہیں۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے اہم تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے تاکہ ان کی طبی نگرانی اور ضروری تشخیصی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ اقدام ان کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے اور انتظامیہ سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عمران خان کے لیے تجویز کردہ تمام طبی ٹیسٹ پمز ہسپتال میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتال کا عملہ اور انتظامیہ مکمل طور پر تیار ہے تاکہ تمام طبی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔ یہ منتقلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سیاسی حلقوں میں عمران خان کی صحت اور ان کی قید کے حالات پر بحث زور و شور سے جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ وضاحت دی گئی ہے کہ طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی اور ہسپتال کے اندر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف نے عدالت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے معاملات مزید الجھ گئے ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام تمام فریقین پر لازم ہے اور کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس تمام تر سیاسی کشیدگی کے بیچ میں عمران خان کی منتقلی کو ایک حساس معاملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر دونوں جانب سے بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ فی الحال پمز ہسپتال کے اطراف سیکیورٹی حصار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ طبی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم عمران خان کے معائنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے جو ان کی صحت کی صورتحال کے مطابق مزید اقدامات کرے گی۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ طبی ٹیسٹ کے عمل کو جلد مکمل کر لیا جائے گا اور اس پر سیاست کرنے کے بجائے طبی تقاضوں کو مقدم رکھا جائے گا۔