Pakistan
میر رضا علی کیس: جبران ناصر کی وزیراعلیٰ سندھ سے وضاحت کی مانگ
سماجی کارکن جبران ناصر نے میر رضا علی کیس کے حوالے سے صوبائی حکومت کی خاموشی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے 24 اہم سوالات کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔
مشہور سماجی کارکن اور قانون دان جبران ناصر نے ایک بار پھر میر رضا علی کیس کے حوالے سے صوبائی حکومت کی خاموشی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ انہوں نے میر رضا علی کے معاملے میں انصاف کے حصول اور حقائق جاننے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو باقاعدہ طور پر 24 اہم سوالات ارسال کیے تھے، تاہم ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو حکومتی کارکردگی اور جوابدہی کے فقدان سے تعبیر کیا ہے۔
جبران ناصر نے پریس کانفرنس اور اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے زور دیا کہ یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں شفافیت کا تقاضا ہے کہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 24 سوالات محض ایک فہرست نہیں بلکہ ان میں کیس کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کا جواب دینا صوبائی حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ان سوالات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ قانونی اور عوامی سطح پر احتجاج کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اس کیس میں عدالتی کارروائی اور حکومتی موقف کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے معاشرے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جبران ناصر کا موقف ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہیے، اور جب تک متعلقہ حکام حقائق واضح نہیں کرتے، تب تک شکوک و شبہات کا ماحول قائم رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر نوٹس لیں اور ان سوالات کا تفصیلی جواب دیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور نظام عدل پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
آخر میں جبران ناصر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ میر رضا علی کیس میں انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس معاملے کو دبا کر نہیں رکھنے دیں گے اور متعلقہ فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتے رہیں گے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے۔