Technology
برطانیہ میں ایران سے منسلک سائبر حملے اور پاور پلانٹ ہیک کی بازگشت
برطانیہ میں ایک پاور پلانٹ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے والے ایران سے منسلک سائبر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت نے ملک کے اہم توانائی کے شعبے کے سربراہان کو ہنگامی بریفنگ دی ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے حال ہی میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کے بعد کہ ایران سے منسلک ہیکرز نے مبینہ طور پر ایک پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، ملک بھر کے توانائی کے شعبے کے اعلیٰ سربراہان کو طلب کر کے ایک اہم بریفنگ دی ہے۔ یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے بالخصوص نیشنل گرڈ اور ڈیٹا سینٹرز کی سائبر سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ برطانوی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ سائبر حملوں کی لہر نے حکومتی حلقوں اور نجی کمپنیوں کو چوکنا کر دیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ رپورٹوں کے مطابق، اس حملے نے نہ صرف بجلی کی پیداوار اور فراہمی کے نظام کو متاثر کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ جدید تنصیبات کتنی جلدی اس طرح کے پیچیدہ ڈیجیٹل خطرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔ ساتھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ستر ارب پاؤنڈ کے نیشنل گرڈ کے مجوزہ اوور ہول اور تزئین و آرائش کے منصوبے کو اب شدید سائبر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکارتی اداروں اور توانائی کے سربراہان کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل دفاع کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور تمام حساس تنصیبات پر نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ تاحال اس بریفنگ کے حتمی نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مکمل تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سائبر محاذ پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکام نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی پروٹوکول کا فوری طور پر جائزہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔