World
شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کی خبر
شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے خفیہ رابطے اور مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ فریقین کے درمیان گہرے عدم اعتماد کے باوجود علاقائی سلامتی کے امور پر بات چیت کا یہ نیا سلسلہ اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
شام اور اسرائیل کے مابین تاریخی اور گہرے بداعتمادی کے ماحول کے باوجود سفارتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ دونوںمملکتوں کے مابین سکیورٹی کے امور پر بات چیت کا سلسلہ ایک بار پھر بحال ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق شام کے وزیر خارجہ نے اشارہ دیا ہے کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان اپنی جگہ موجود ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تھامنے کے لیے سکیورٹی مذاکرات کی بحالی کی راہیں نکالی جا سکتی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ اور شامی وزیر خارجہ کے درمیان حالیہ فضائی حملوں کے بعد کشیدگی کو کم کرنے کی غرض سے ایک ملاقات بھی ہوئی ہے۔ یہ رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں عسکری کارروائیوں اور بمباری کے واقعات میں تیزی آئی ہے اور مختلف ممالک کی طرف سے انتباہات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دوسری جانب ترکی اور اسرائیل کی طرف سے شام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت بیانات بھی سامنے آ چکے ہیں، جس سے خطے کا سکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ادھر امریکہ کی جانب سے بھی یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ شام کے ایک فضائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے پس منظر میں جو انٹیلی جنس معلومات استعمال کی گئی تھیں وہ غلط ثابت ہوئی تھیں۔ اس پس منظر میں ماہرین کا ماننا ہے کہ شام اور اسرائیل کے مابین کسی بھی قسم کے مذاکرات کا دوبارہ شروع ہونا نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ فریقین ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر عملی اقدامات پر آمادہ ہوں۔