Business
سونے کی قیمتوں میں تیزی، عالمی منڈی میں نیا ریکارڈ
عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے اور قیمت تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس تیزی کی بڑی وجہ امریکی افراط زر کے اعداد و شمار اور اہم اقتصادی کانفرنسز سے قبل سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کے نرخوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پیلی دھات کی قیمت گزشتہ تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی یہ ریلی امریکی افراط زر کے اعداد و شمار کے اجرا اور جیکسن ہول میں ہونے والی اہم مرکزی بینکوں کی کانفرنس سے قبل زور پکڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار اس وقت سونے کو محفوظ اثاثہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے منڈی میں طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی مالیاتی خدشات اور معاشی عدم استحکام کے پیش نظر، سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو میں سونے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ ممکنہ معاشی خطرات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض عارضی نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔ اگرچہ مارکیٹ کے کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ سونے کو اب بھی کچھ خطرات کا سامنا ہے، تاہم موجودہ تیزی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔ خاص طور پر امریکی معیشت سے متعلق متوقع پالیسی فیصلوں کے تناظر میں، سونے کی مانگ میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف سونے کے تاجروں کے لیے خوش آئند ہے بلکہ یہ عالمی معاشی منظر نامے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
تجارتی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر آئندہ آنے والے دنوں میں افراط زر کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ رہے تو سونے کی قیمتیں مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ تاہم، فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی کا اثر براہ راست سونے کی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔ اس وقت، دنیا بھر کے بڑے تجارتی مراکز میں سونے کی قیمتوں کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی استحکام کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے کریں، کیونکہ مستقبل کے اقتصادی اشارے سونے کی قیمت کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔